کلام

ہر شعر کو اپنی جگہ اور اپنی خاموشی درکار ہوتی ہے۔

ملال ہے مجھے، لیکن ملال کیسا ہے؟

یہ دل بجھا تو نہیں پھر نڈھال کیسا ہے؟

یہاں تو کوئی کسی کا نہیں، کبھی بھی نہیں

تمھیں یہ آج کسی کا خیال کیسا ہے؟

ہوا کے رخ پہ جلائے تھے تم نے میرے خواب

اب آکے پوچھتے کیوں ہو کہ حال کیسا ہے؟

ہمیں تو ہار کے بھی مسکرانا آتا ہے

تمھاری جیت میں بولو کمال کیسا ہے؟

اڑان بھرتے ہوئے تو بڑے عزائم تھے

تو پھر یہ راہ میں یکدم زوال کیسا ہے؟

غزل

میں ایک غزل تیری ادا پر بھی لکھوں گا

اس حسن پہ بھی اور جفا پر بھی لکھوں گا

میں اپنے ہر اک مہر و وفا پر بھی لکھوں گا

میں تیرے ہر اک فخر و ادا پر بھی لکھوں گا

ماہر ہوں میں لکھنے میں، تو کہنے میں ہے ماہر

اک روز میں تجھ وعدہ وفا پر بھی لکھوں گا

لکھوں گا میں ہر خواب کے بیدار مناظر

تیری نظر انداز عطا پر بھی لکھوں گا

لکھوں گا ترے نام، ترے کام، ترے جام پہ اک دن

اور تیری قسم، تیری سخا پر بھی لکھوں گا

جو حکم دیا تو نے جدا ہونے کا مجھ کو

لکھوں گا تو اس حکمِ جدا پر بھی لکھوں گا

میں عشق کو لکھوں گا مظالم میں ڈبو کر

میں درد کو لفظوں میں سجا کر بھی لکھوں گا

غزل